Submitted by anees on Fri, 11/04/2011 - 22:17
زندگی اور کائنات کی سب سے اہم حقیقت اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ اس کے ہونے یا نہ ہونے سے ہر چیز کے معنیٰ بدل جاتے ہیں۔ اگر اللہ ہے تو زندگی اور کائنات کی ہر چیز بامعنی اور بامقصد ہے‘ اور اگر اللہ موجود ہی نہیں تو پھر کائنات کی ہر چیزبے معنی اور بے مقصد ہے۔ لیکن اسلام میں اہمیت اللہ کے ہونے یا نہ ہونے کو حاصل نہیں‘ بلکہ اللہ کی الوہیت کو حاصل ہے ۔ تاہم دین بیزاری اور الحاد کے اس دور میں کچھ ایسے کورچشم بھی ہیں جو آفاق وانفس کے بے شمار دلائل سے آنکھیں موند کروجود باری تعالیٰ کا انکار کربیٹھتے ہیں ‘ ایسے لوگوں کو ہم کیسے مطمئن کرسکتے ہیں ؟
Submitted by anees on Fri, 11/04/2011 - 21:37
یہ زمانہ جس میں ہم لوگ زندگی بسر کر رہے ہیں الحاد و بے دینی اور مادہ پرستی کا دور ہے۔ اس میں نہ صرف اللہ کی ضرورت سے انکار کیا جا رہا ہے ،بلکہ سرے سے دنیا کا کوئی خالق ہی تسلیم نہیں کیا جاتا ، اس پوری کائنات کو ایک اتفاقی واقعہ یا حادثہ کے طور پروجود میں آئی ہوئی چیز مانا جا رہا ہے ، جس کا نہ کوئی خالق ہے، نہ کوئی مالک، نہ اس کا کوئی بنانے والا ہے، اور نہ ہی اس کا کوئی انتظام کر نے والا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا بس اتفاقی طور پر وجود میں آ گئی اور پھر رفتہ رفتہ ترقی کے منازل طے کرتی جا رہی ہے۔حالانکہ یہ دنیا جو ہمارے سامنے پھیلی ہوئی ہے ،مختلف پہلوؤں سے نہ صرف ایک علۃ العلل پر بلکہ ایک ایسے م
Submitted by anees on Thu, 11/03/2011 - 20:26
شیطان نے فلاسفہ کو دھوکا دیے کر ان پر اسطرح قابو پایا کہ یہ لوگ فقط اپنی رایوں اور عقلوں کے ہو رہے ،
اور اپنے خیالات کے مطابق گفتگو کی۔ انبیاء علیھم السلام کی طرف متوجہ نہ ہوئے ۔
ان میں سے بعض وہ ہیں جو دہریہ فرقہ کے ہم مشرب ہوئے اور کہتے ہیں کہ عالم کا کوئی صانع نہیں ہے۔
یحیٰ بن بشر نہاوندی نے ذکر کیا کہ ارسطاطالیس اور اسکے اصحاب عَالَم کیلئے صانع نہیں مانتے،
اور ان میں سے اکثر وہ ہیں جو کہ عالَم کیلئے علت قدیمہ ثابت کرتے ہیں۔
Submitted by anees on Thu, 11/03/2011 - 19:15
وجودِ باری تعالیٰ کے بارے میں انسانوں میں غلط فہمیاں بہت کم پیدا ہوئیں، البتہ صفاتِ الہٰیہ کا صحیح عرفان اور شعور نہ ہونے کی بنا پر لوگ زیادہ کج روی کا شکار ہوئے۔ اس لیے قرآن کریم نے متعدد مقامات پر صفات الہٰی کو بار بار مختلف اسلوب وپیرائے میں بیان کرکے ان کے سلسلہ میں انسانی ذہنوں میں پائی جانے والی کج فہمیوں کا ازالہ کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خالق کائنات او رمخلوق کے مابین رشتہ وتعلق کی نوعیت صفات الہٰی ہی سے واضح ہوتی ہے اور ذات بار ی تعالیٰ کا عرفان بھی ان ہی سے حاصل ہوتا ہے ۔ یہ صفات عظمت الہٰی کی اس بلند ترین حقیقت کو آشکارا کرتی ہیں کہ انسان ذات الہٰی کی حقیقت تک پہنچنے میں کتنا عاجز و
Submitted by anees on Thu, 11/03/2011 - 00:56
مغرب میں سیکولرازم کی روایت خدا اور مذہب کے انکار کی روایت ہے اسی لیے مغرب کی لغات میں سیکولرازم کے معنی لادینیت بتائے گئے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو سیکولرازم کا مسلم معاشروں میں کوئی تعلق ہی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کی فکری روایت ایمان اور یقین کی روایت ہے‘ مغرب کی طرح ”شک“ کی روایت نہیں ہے۔
Submitted by anees on Thu, 11/03/2011 - 00:46
دنیا کی مذہبی تہذیبوں میں سب سے بڑا علم الٰہیات یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے علم کو سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے۔ زندگی اور کائنات کی سب سے اہم حقیقت اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ اس کے ہونے یا نہ ہونے سے ہر چیز کے معنیٰ بدل جاتے ہیں۔ اگر خدا ہے تو زندگی اور کائنات کی ہر چیز بامعنی اور بامقصد ہے‘ اور اگر خدا موجود ہی نہیں تو پھر کائنات کی ہر چیز بے معنی اور بے مقصد ہے۔ لیکن اہمیت صرف اللہ کے ہونے یا نہ ہونے ہی کو حاصل نہیں‘ اس بات سے بھی بہت فرق پڑتا ہے کہ کسی تہذیب میں خدا کو کس طرح کا خدا سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ہندو تہذیب میں یہ سمجھا گیا کہ کائنات کی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ موجو
Submitted by anees on Thu, 11/03/2011 - 00:32
جنرل (ر) پرویز مشرف کے دورِ نامسعود میں جس نام نہاد روشن خیالی کا بیج بوکر ایک زہریلا پودااُگایا گیا تھا، پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت میں وہ سیکولرزم، اباحیت پسندی اور فکری انتشار اور نظریۂ پاکستان سے انکار جیسے کڑوے کسیلے اور زہریلے برگ و بار لے آیا ہے۔ پیپلزپارٹی بظاہر تو صبح وشام ’عوام عوام‘ کی رَٹ لگاتی ہے اور ’جمہوریت جمہوریت‘ کی دُہائی بھی دیتی ہے مگر پاکستان کی نظریاتی جہت کے ضمن میں اسے نہ تو عوام کی اُمنگوں کی کوئی پروا ہے نہ جمہور کی خواہشات کا کوئی پاس و لحاظ۔ اس کے برعکس یہ پارٹی بلاتامّل ہر وہ اقدام کر گزرتی ہے جس سے پاکستان کی نظریاتی شناخت دھندلی ہوتی ہے اور جس سے اسلامی شریعت
Submitted by anees on Thu, 11/03/2011 - 00:23
کسی بھی قوم کا مضبوط ترین دفاعی حصار اس کے نظریات ہوتے ہیں۔ نظریات کا حصار اگر مضبوط بنیادوں پر قائم ہو اور اس کی دیواروں کی مسلسل دیکھ بھال کی جاتی رہے تو قومیں اپنے دفاع کو موثر اور پائدار بنا سکتی ہیں۔ مگر نظریات کے معیار کو قائم اور مضبوط رکھنے کیلئے خود اس حصار کی دیکھ بھال کرتے رہنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ پاکستان کو بھارت سے علیحدہ مملکت دو قومی نظریے کی بنیاد پر بنایا گیا، کیونکہ مسلمانوں کا طرز زندگی ہندوؤں کے طرز زندگی سے قطعی طور پر مختلف ہے اور جمہوری نظام کے تحت ان دونوں قوموں کا اکھٹے رہنا کسی طور پر ممکن نہ تھا چنانچہ بانیان پاکستان نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر مسلمانوں کیلئے علیح
Submitted by anees on Wed, 11/02/2011 - 07:21
مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ تسلط کا آغاز27اکتوبر 1947کو ہوا۔ یہ المیہ جاں گداز اپنے جلو میں مسلمانان کشمیر کے لیے آلام ومصائب کا جو سیلاب لے کر آیا۔اس کی دلگداز روداد کے ذکر سے پہلے ہندوسامراج کی ذہنیت کا سمجھنا ضروری ہے۔ ہندوو¿ں کی مشہور کتاب ”ارتھ شاستر“ میں جسے بلاشبہ ہندوؤں کی سیاسی با ئبل کی حیثیت حاصل ہے۔
ہندو سیاست کی حکمت عملی کا بنیادی اصول یہ بیان کیا گیا ہے۔
"When you want to kill your enemy befriend with him ' when you are killing him embrace him and when you have killed him weep over his dead body"
Submitted by anees on Wed, 02/16/2011 - 00:00
اسلام آباد: پاکستانی خاتون ڈاکٹرعافیہ صدیقی کے کراچی سے پاکستانی خفیہ ادارے کی جانب سے اغواء، امریکا کو حوالگی اور دوران قید گزرنے والے مختلفمراحل پرمبنی انکشاف انگیز آڈیو ٹیپ منظر عام پر آئی ہے۔آڈیوٹیپ کے مطابقعافیہ کااغواء سندھ پولیس کے کائونٹر ٹیررازم سیل کے اس وقت کے سربرا ہعمران شوکت کی جانب سے عمل میں آیا تھا۔
صفحات