مغرب میں سیکولرازم کی روایت خدا اور مذہب کے انکار کی روایت ہے اسی لیے مغرب کی لغات میں سیکولرازم کے معنی لادینیت بتائے گئے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو سیکولرازم کا مسلم معاشروں میں کوئی تعلق ہی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کی فکری روایت ایمان اور یقین کی روایت ہے‘ مغرب کی طرح ”شک“ کی روایت نہیں ہے۔
مغرب کے بعض دانش وروں نے امام غزالیؒ کی فکر میں شک کا عنصر تلاش کیا ہے اور انہیں مغرب میں شک کی روایت کا پیش رو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن غزالیؒ پر اس سے بڑا الزام کوئی ہو بھی نہیں سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غزالیؒ نے اپنی خود نوشت المنقذ من الضلال میں صاف لکھا ہے کہ ان کی زندگی میں کوئی لمحہ نہیں آیا جب انہیں وجود باری تعالیٰ پر یا اسلام کے دیگر عقائد پر کوئی شک گزرا ہو۔ البتہ ان کی زندگی میں ایک دور ایسا ضرور آیا تھا جب انہیں اپنے دور میں موجود اسلام کی مختلف تعبیرات کے حوالے سے تذبذب نے گھیر لیا تھا۔ لیکن اسلام کی بنیادی عقائد میں شک کا پیدا ہونا اور اسلام کے حوالے سے موجود تعبیرات کے معاملے میں تذبذب کا لاحق ہونا دو مختلف باتیں ہیں۔بلاشبہ اسلام کی فکری تاریخ میں بعض گروہ ایسے ہوتے ہیں جن کے کفر پر امت مسلمہ میں اجماع ہوگیا۔ مثلاً معتزلہ۔ لیکن معتزلہ کی روایت بھی شک اور مذہب کے انکار کی روایت نہیں ہے۔ معتزلہ خدا اور مذہب کے قائل تھے البتہ ان کے بعض عقائد ایسے تھے جو خلاف اسلام تھے‘ چنانچہ ان عقائد کی بنیاد پر انہیں دائرہ اسلام سے باہر کردیا گیا۔ اسی طرح مسلمانوں میں منکرین حدیث کا بھی ایک عنصر پایا جاتا ہے لیکن انکارِ حدیث اسلام کا کلی انکار نہیں جزوی انکار ہے اور اس کا مغرب میں موجود کلی انکار کی روایت سے کوئی تعلق نہیں۔
مغرب میں سیکولرازم کا ایک پہلو یہ ہے کہ مذہب اور ریاست کو الگ کرکے مذہب کو ریاستی امور سے بے دخل کردیا گیا اور کہا گیا کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ریاست مذہبی معاملات میں غیر جانب دار ہوتی ہے اور یہ کہ مذہب افراد کا ” نجی معاملہ“ ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو مغرب میں سیکولرازم صرف فکری تجربہ ہی نہیں ”تاریخی تجربہ“ بھی ہے۔ لیکن مسلمانوں کی تاریخ میں سیکولرازم کبھی تاریخی تجربہ نہیں رہا۔
مسلمانوں کی تاریخ میں ملوکیت ہے‘ بادشاہت ہے مگر سیکولرازم نہیں ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ میں مذہب کبھی سیاست سے الگ نہیں رہا اور نہ ہی اسے کبھی فرد کا نجی معاملہ قرار دیا گیا۔ مغل بادشاہ اکبر نے دین الٰہی ایجاد کیا اور یہ تجربہ اسلام کی ضد تھا لیکن اس میں مذہب کے انکار کی وہ صورت نہیں تھی جو صورت مغرب میں پائی جاتی ہے پھر یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اکبر نے اپنے آخری زمانے میں دین الٰہی سے رجوع کرلیا تھا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو سیکولرازم مسلمانوں کی فکری تاریخ اور مسلمانوں کے تاریخی تجربے میں ایک اجنبی عنصر کی حیثیت رکھتا ہے لیکن یہ سیکولرازم اور مسلم معاشروں کے تعلق سے گفتگو کا محض ایک زاویہ ہے۔
گفتگو کا دوسرا زاویہ یہ ہے کہ سیکولرازم خدا اور مذہب کا انکار کیے بغیر ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں تباہی مچا رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سیکولرازم کی اس صورت کا ”تشخص“ کیا ہی؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اسلام کا ایک تصور آخرت ہے اور ایک تصور دنیا۔ اس تصور کے دائرے میں ”دین داری“ یہ ہے کہ آخرت کو دنیا پر کامل غلبہ حاصل رہے اور انسان کی زندگی آخرت کی محبت کی علامت ہو۔ اس تصور کے دائرے میں دین داری کی ضد یہ ہے کہ انسان دنیا کی محبت میں مبتلا ہوجائے اور دنیا آخرت پہ غالب آجائے۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ دنیا ہماری آرزوﺅں اور تمناﺅں میں آخرت پر غالب ہو۔ اس کی ایک شکل یہ ہے کہ دنیا ہمارے خیالات میں آخرت پر غالب ہو۔ اس معاملے کا ایک رخ یہ ہے کہ دنیا ہمارے منصوبوں میں آخرت پر غالب آجائے اور اس مسئلے کا ایک زاویہ یہ ہے کہ ہماری زندگی آخرت پر دنیا کے غلبے کا مظہر بن جائے۔ غور کیا جائے تو سیکولرازم کی یہی وہ صورت ہے جو خدا اور مذہب کا انکار کیے بغیر ہماری زندگی میں نہ صرف یہ کہ سرایت کرچکی ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے۔
اس صورتِ حال کا ایک استعارہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی زر پرستی ہے۔ اسلامی معاشرے میں فضیلتیں صرف دو ہیں تقویٰ کی فضیلت اور علم کی فضیلت۔ لیکن مسلم معاشروں میں ان فضیلتوں کا فضیلت ہونا نہ ظاہر ہے نہ ثابت ہے۔ تقویٰ کا دوسرا نام شرافت ہے اور شریف آدمی کو ہمارے معاشرے میں بے وقوف آدمی سمجھا جاتا ہے۔ جہاں تک علم کا تعلق ہے تو مسلم معاشرے تقریباً علم سے بے نیاز کھڑے ہیں اور مسلم معاشروں کے بازار میں علم ایک ایسی شے ہے جس کا کوئی خریدار نہیں۔ مسلم معاشروں میں اگر کسی چیز کی اہمیت ہے تو وہ دولت ہے لیکن دولت کا معاملہ یہ ہے کہ دولت صرف دولت نہیں ہے بلکہ وہ پوری زندگی بن گئی ہے۔
شرافت اور نجابت ہے تو اس کے پاس جس کے ہاتھ میں دولت ہے۔ صاحبِ علم اور ذہین ہے تر وہی شخص جس کے پاس زر کے انبار ہیں۔ طاقتور ہے تو وہی انسان جس کا بینک بیلنس صحت مند ہے۔ ایک وقت تھا کہ لڑکیوں کے رشتے کرتے ہوئے شرافت اور نجابت کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی تھی اور ایک وقت یہ ہے کہ شرافت اور نجابت کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ پوچھتا ہے تو صرف ایک چیز کو دولت کو‘ نوکری کو‘ تنخواہ کو‘ لڑکے میں دس عیب ہوں تو کوئی بات نہیں مگر اس میں دولت کی قلت کا عیب نہیں ہونا چاہیے۔
ہماری دنیا پرستی کی ایک بڑی علامت ہمارا نظامِ تعلیم ہے۔ اسلامی تاریخ میں علم کے دو عظیم مقاصد رہے ہیں۔ ایک یہ کہ علم معرفت الٰہی میں مدد دے دوسرے یہ کہ علم کی بنیاد پر تخلیق و ایجاد کی روایت آگے بڑھے اور علم‘ علم کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرے لیکن ہم نے علم کو ان دو عظیم مقاصد سے کاٹ کر اس کو صرف ایک مقصد سے وابستہ کرلیا ہے اور یہ مقصد ہے اچھی ملازمت کا حصول۔ چنانچہ والدین اپنے بچوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ ٹھیک طرح سے پڑھیں تاکہ انہیں اچھے سے اچھا روزگار حاصل ہوسکے۔ عزیز رشتے دار بچے کو اسی ہدف پر توجہ مرکوز کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اساتذہ کا مشن بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کو بہتر سے بہتر امتحانی نتائج پیدا کرنے میں مدد دیں تاکہ انہیں اچھی سے اچھی ملازمت مل سکے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو پورا معاشرہ نئی نسلوں کو گمراہ اور تباہ کرنے میں لگا ہوا ہے اور مزے کی بات ہے کہ اس پر فخر کرتا ہے۔ تعلیم کا یہ ماڈل سرسید کی دین ہے اور سرسید کے زمانے ہی سے یہ ماڈل عوام میں بے انتہا مقبول ہے۔ اس کی مقبولیت دیکھتے ہوئے اکبرالٰہ آبادی نے کہا تھا:
سید اٹھے جو گزٹ لے کر تو لاکھوں لائی شیخ قرآن دکھاتے پھرے پیسہ نہ ملا
اس شعر میں سرسید کا گزٹ ”نئے علم“ کی علامت ہے اور قرآن ”قدیم علم“ کی۔ لوگ کہتے ہیں کہ اب قرآن دکھانے سے بھی پیسے مل جاتے ہیں اور وہ غلط نہیں کہتے مگر بدقسمتی سے ہم قرآن بھی دنیا کے لیے ہی پڑھ اور پڑھا رہے ہیں۔
ہماری دنیا پرستی کا ایک پہلو یہ ہے کہ ہماری صلاحیت‘ توانائی اور وقت کا بہترین اور بیشتر حصہ معاشی سرگرمی کے لیے وقف ہوگیا ہے۔ مذہبی زندگی کے لیے نہ ہماری بہترین صلاحیتیں استعمال ہورہی ہیں نہ بہترین توانائیاں نہ بہترین وقت۔ اس سلسلے میں مری بھیڑ اللہ کے نام کی کے اصول پر عمل ہورہاہے یعنی ہماری صلاحیت ‘ توانائی اور وقت سے جو حصہ ”بچ“ جاتا ہے اسے ہم مذہبی زندگی‘ مذہبی کاموں اور مذہبی سرگرمیوں کے لیے بروئے کار لاتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کو یہ پسند نہیں کہ اس کے لیے ”بچی کھچی چیزیں“ استعمال کی جائیں۔ لیکن یہ بات نہ ہمارے انفرادی اور اجتماعی شعور میں کہیں موجود ہے نہ ہمیں اس پر کسی قسم کی شرمندگی لاحق ہوتی ہے۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مذہب ہماری زندگی کا متن نہیں صرف حاشیہ ہے۔ ہماری زندگی کا متن دنیا اور اس کی محبت ہے۔ یہ سرتاپا ایک سیکولر طرزِ فکر اور طرزِ حیات ہے لیکن ہم اس کے اعتراف اور ادراک دونوں سے گریزاں ہیں۔