Submitted by anees on Thu, 11/03/2011 - 19:15
وجودِ باری تعالیٰ کے بارے میں انسانوں میں غلط فہمیاں بہت کم پیدا ہوئیں، البتہ صفاتِ الہٰیہ کا صحیح عرفان اور شعور نہ ہونے کی بنا پر لوگ زیادہ کج روی کا شکار ہوئے۔ اس لیے قرآن کریم نے متعدد مقامات پر صفات الہٰی کو بار بار مختلف اسلوب وپیرائے میں بیان کرکے ان کے سلسلہ میں انسانی ذہنوں میں پائی جانے والی کج فہمیوں کا ازالہ کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خالق کائنات او رمخلوق کے مابین رشتہ وتعلق کی نوعیت صفات الہٰی ہی سے واضح ہوتی ہے اور ذات بار ی تعالیٰ کا عرفان بھی ان ہی سے حاصل ہوتا ہے ۔ یہ صفات عظمت الہٰی کی اس بلند ترین حقیقت کو آشکارا کرتی ہیں کہ انسان ذات الہٰی کی حقیقت تک پہنچنے میں کتنا عاجز و
Submitted by anees on Thu, 11/03/2011 - 00:46
دنیا کی مذہبی تہذیبوں میں سب سے بڑا علم الٰہیات یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے علم کو سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے۔ زندگی اور کائنات کی سب سے اہم حقیقت اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ اس کے ہونے یا نہ ہونے سے ہر چیز کے معنیٰ بدل جاتے ہیں۔ اگر خدا ہے تو زندگی اور کائنات کی ہر چیز بامعنی اور بامقصد ہے‘ اور اگر خدا موجود ہی نہیں تو پھر کائنات کی ہر چیز بے معنی اور بے مقصد ہے۔ لیکن اہمیت صرف اللہ کے ہونے یا نہ ہونے ہی کو حاصل نہیں‘ اس بات سے بھی بہت فرق پڑتا ہے کہ کسی تہذیب میں خدا کو کس طرح کا خدا سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ہندو تہذیب میں یہ سمجھا گیا کہ کائنات کی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ موجو