Submitted by anees on Fri, 11/04/2011 - 21:37
یہ زمانہ جس میں ہم لوگ زندگی بسر کر رہے ہیں الحاد و بے دینی اور مادہ پرستی کا دور ہے۔ اس میں نہ صرف اللہ کی ضرورت سے انکار کیا جا رہا ہے ،بلکہ سرے سے دنیا کا کوئی خالق ہی تسلیم نہیں کیا جاتا ، اس پوری کائنات کو ایک اتفاقی واقعہ یا حادثہ کے طور پروجود میں آئی ہوئی چیز مانا جا رہا ہے ، جس کا نہ کوئی خالق ہے، نہ کوئی مالک، نہ اس کا کوئی بنانے والا ہے، اور نہ ہی اس کا کوئی انتظام کر نے والا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا بس اتفاقی طور پر وجود میں آ گئی اور پھر رفتہ رفتہ ترقی کے منازل طے کرتی جا رہی ہے۔حالانکہ یہ دنیا جو ہمارے سامنے پھیلی ہوئی ہے ،مختلف پہلوؤں سے نہ صرف ایک علۃ العلل پر بلکہ ایک ایسے م
Submitted by anees on Thu, 11/03/2011 - 20:26
شیطان نے فلاسفہ کو دھوکا دیے کر ان پر اسطرح قابو پایا کہ یہ لوگ فقط اپنی رایوں اور عقلوں کے ہو رہے ،
اور اپنے خیالات کے مطابق گفتگو کی۔ انبیاء علیھم السلام کی طرف متوجہ نہ ہوئے ۔
ان میں سے بعض وہ ہیں جو دہریہ فرقہ کے ہم مشرب ہوئے اور کہتے ہیں کہ عالم کا کوئی صانع نہیں ہے۔
یحیٰ بن بشر نہاوندی نے ذکر کیا کہ ارسطاطالیس اور اسکے اصحاب عَالَم کیلئے صانع نہیں مانتے،
اور ان میں سے اکثر وہ ہیں جو کہ عالَم کیلئے علت قدیمہ ثابت کرتے ہیں۔
Submitted by anees on Thu, 11/03/2011 - 19:15
وجودِ باری تعالیٰ کے بارے میں انسانوں میں غلط فہمیاں بہت کم پیدا ہوئیں، البتہ صفاتِ الہٰیہ کا صحیح عرفان اور شعور نہ ہونے کی بنا پر لوگ زیادہ کج روی کا شکار ہوئے۔ اس لیے قرآن کریم نے متعدد مقامات پر صفات الہٰی کو بار بار مختلف اسلوب وپیرائے میں بیان کرکے ان کے سلسلہ میں انسانی ذہنوں میں پائی جانے والی کج فہمیوں کا ازالہ کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خالق کائنات او رمخلوق کے مابین رشتہ وتعلق کی نوعیت صفات الہٰی ہی سے واضح ہوتی ہے اور ذات بار ی تعالیٰ کا عرفان بھی ان ہی سے حاصل ہوتا ہے ۔ یہ صفات عظمت الہٰی کی اس بلند ترین حقیقت کو آشکارا کرتی ہیں کہ انسان ذات الہٰی کی حقیقت تک پہنچنے میں کتنا عاجز و