اللہ پر ایمان

وجود باری تعالی کا ثبوت (عرفان احمد بن عبد الواحد صفوی)

یہ زمانہ جس میں ہم لوگ زندگی بسر کر رہے ہیں الحاد و بے دینی اور مادہ پرستی کا دور ہے۔ اس میں نہ صرف اللہ کی ضرورت سے انکار کیا جا رہا ہے ،بلکہ سرے سے دنیا کا کوئی خالق ہی تسلیم نہیں کیا جاتا ، اس پوری کائنات کو ایک اتفاقی واقعہ یا حادثہ کے طور پروجود میں آئی ہوئی چیز مانا جا رہا ہے ، جس کا نہ کوئی خالق ہے، نہ کوئی مالک، نہ اس کا کوئی بنانے والا ہے، اور نہ ہی اس کا کوئی انتظام کر نے والا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا بس اتفاقی طور پر وجود میں آ گئی اور پھر رفتہ رفتہ ترقی کے منازل طے کرتی جا رہی ہے۔حالانکہ یہ دنیا جو ہمارے سامنے پھیلی ہوئی ہے ،مختلف پہلوؤں سے نہ صرف ایک علۃ العلل پر بلکہ ایک ایسے م

فلاسفہ اور انکے تابعین پر شیطان کی تلبیس (علامہ ابن جوزی)

شیطان نے فلاسفہ کو دھوکا دیے کر ان پر اسطرح قابو پایا کہ یہ لوگ فقط اپنی رایوں اور عقلوں کے ہو رہے ،

اور اپنے خیالات کے مطابق گفتگو کی۔ انبیاء علیھم السلام کی طرف متوجہ نہ ہوئے ۔
ان میں سے بعض وہ ہیں جو دہریہ فرقہ کے ہم مشرب ہوئے اور کہتے ہیں کہ عالم کا کوئی صانع نہیں ہے۔
یحیٰ بن بشر نہاوندی نے ذکر کیا کہ ارسطاطالیس اور اسکے اصحاب عَالَم کیلئے صانع نہیں مانتے،

اور ان میں سے اکثر وہ ہیں جو کہ عالَم کیلئے علت قدیمہ ثابت کرتے ہیں۔

Subscribe to RSS - اللہ پر ایمان